ملک کو لوٹنے والوں کی جائیدادیں نیلام ہونی چاہئیں، فواد چوہدری

اسلام آباد(ورلڈ پوائنٹ نیوز) وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جنہوں نے ملک کو لوٹا ان کی جائیدادیں نیلام ہونی چاہئیں۔

قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بہت غصہ ہے لیکن ایڈن ہاؤسنگ سوسائٹی کا مقدمہ ہم نے فائل نہیں کیا، یہ مقدمہ نیب میں پہلے ہی چل رہا تھا، نیب نے ایڈن کے مالک سمیت دیگر ملوث لوگوں کے ریڈ وارنٹ جاری کروائے جو 12 ہزار لوگوں کے اربوں روپے کھا گئے تھے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب ایوان میں چور ڈاکو پر ہاتھ ڈالنے کی بات کی جاتی ہے تو اس پر اپوزیشن احتجاجاً واک آؤٹ کرتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی طرف اشارہ ہے ، اس حوالے سے پاکستان کی عدالتوں کو کام کرنا ہے۔ ہم کرپشن کے خلاف ہیں لیکن جس کو پکڑنے کی کوشش کریں وہ کہتا ہے بڑا ظلم ہو گیا ہے۔ بڑے بڑے کرپٹ لوگوں کو گردنوں سے پکڑیں گے، جن لوگوں نے پاکستان لوٹا ان کی جائیدادیں نیلام ہونی چاہئے، ہم ڈاکوؤں کو الٹا لٹکانا چاہتے ہیں لیکن ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی پر اپوزیشن احتجاج کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے رکن تیمور علی خان تالپور نے بہت اہم انکشاف کیا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر کچھ لوگ ووٹوں کی خرید و فروخت میں ملوث رہے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ووٹ خریدے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے پہلے یہ بات کی تھی کہ سینیٹ کے انتخابات کے طریقہ کار کو تبدیل ہونا چاہئے۔ ووٹ خریدنے کے معاملے پر مذکورہ انکشاف کے بعد الیکشن کمیشن کو نوٹس لینا چاہیے اور تحقیقات کا حکم جاری ہونا چاہئے۔ خیبر پختونخوا میں ہمارے 20 اراکین نے اس طرح کی حرکت کی تھی تو سب سے پہلے ان کی رکنیت معطل کی گئی اور انتخابات میں انہیں ٹکٹ بھی نہیں دیئے گئے، اب سندھ اسمبلی کے رکن کے انکشاف کے بعد الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرے اور معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ سینیٹر مشاہد اللہ خان نے قومی ایئر لائن پی آئی اے میں اپنے بھائیوں کو کس طرح بھرتی کروایا ان کو جواب دینا چاہئے۔ ریلوے میں خواجہ سعد رفیق نے بے شمار لوگوں کو بھرتی کیا ہے، وہ کام کرنے نہیں آتے صرف تنخواہ لینے آتے ہیں۔

جہانگیر ترین کی نا اہلی کے فیصلے سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ترمیم نہیں لائی جاتی اور نہ ہی جہانگیر ترین کے فیصلے کے حوالے سے ترمیم لائی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں