19سالہ نوجوان کو49دن بعد گہرے سمندر سے بحفاظت نکال لیا گیا

جکارتہ (دیس پردیس نیوز) کھلے سمندر میں پھنس جانے والے19سالہ نوجوان کو49روز بعد بحفاظت محفوظ مقام تک پہنچا دیا گیا، نوجوان نے مچھلیاں پکڑ کر اور بارش کے پانی سے پیٹ کی آگ بجھائی۔

تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا سے تعلقرکھنے والے ایک19سالہ نوجوان آلڈی نوویل ایڈیلانگ کو بحرالکاہل سے49روز بعد زندہ بچا لیا گیا، یہ نوجوان مچھلیاں پکڑنے والی ایک چھوٹی سی کشتی پر روشنی کرنے کی ڈیوٹی کرتا تھا۔

رواں سال14جولائی کو اس کییہ کشتی تیز ہواؤں کے سبب لنگر سے الگ ہو گئی، بغیر انجن اور بغیر پیڈل کے یہ کشتی سمندر کی تیز موجوںاور تیز ہواؤں کے سامنے بے بس ہو کر ہزاروں کلومیٹر دور نکل گئی اور بحرالکاہل کے گہرے سمندر میںجاپہنچی، جہاں آلڈی نوویل کو چاروں طرف حد نگاہ کسی مدد کے آثار نہ دکھائی دیئے۔

اس کے باوجود اس نےہمت نہ ہاری اور49روز تک حالات کا بھرپور مقابلہ کیا، اس دوران نوجوان نے اپنا پیٹ بھرنے کیلئے مچھلیاں پکڑیں، اس نے ان مچھلیوں کو کشتی کے چھوٹے چھوٹے حصوں سے جلائی گئی آگ پر پکا کر کھایا۔

پیاس بجھانے کیلئے آلڈی نوویل کے پاس سوائے بارش کے کوئی اور ذریعہ نہ تھا، نوجوان بارش کے پانی سے اپنی قمیض کو بھگو لیتا اور وقت ضرورت اسے نچوڑ کر اپنی پیاس بجھاتا۔

اس دوران کم و بیش دس بحری جہاز اس کے قریب سے گزرے لیکن اسے کسی دیکھا نہیں یا پھر دانستہ طور پر نظر انداز کر کے چلا گیا، تاہم31اگست کو پاناما کے پرچم والے ایک بحری جہاز کو آلڈی نوویل نے اپنی شرٹ ہوا میں لہرا لہرا کر اپنی طرف متوجہ کر ہی لیا۔

جہاز کے عملے نے ایک رسے کے ذریعے آلڈی کو اس کی کشتی سے اس بحری جہاز پر منتقل کیا اور بعد ازاں جاپان پہنچ کر اس نوجوان کو انڈونیشیا کے حکام کے حوالے کیا۔

آلڈی نوویل نو ستمبر کو بالآخر خیریت سے واپس انڈونیشیا کے موناڈو نامی شہر میں واقع اپنے گھر اور اہل خانہ کے پاس پہنچ گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں