فلسطینوں کو8 روز میں گاؤں خان الااحمر خالی کرنے کی دھمکی

یروشلم (دیس پردیس نیوز) غاصب ریاست اسرائیل نے مقبوضہ فلسطین کے گاؤں خان الا احمر کو منہدم کرنے کے لیے علاقہ مکینوں کو آٹھ روز میں گاؤں خالی کرنے کا دھمکی آمیز نوٹس جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق غاصب اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے متعدد گاؤں اور دیہات مسمار کرنے کے بعد مشہور گاؤں خان الااحمر کو مسمار کرنے کے سلسلے میں علاقہ مکینوں کو گاؤں خالی کرنے کا دھمکی آمیز نوٹس جاری کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ صیہونی ریاست کی جانب سے گاؤں کے رہائشیوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ 8 روز میں گاؤں خالی کیا جائے وگرنہ زبردستی گاؤں بدر کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ گاؤں کے مکینوں کی جانب سے اسرائیلی عدالت میں گاؤں کو مسمار کرنے کے خلاف درخواست دی گئی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے حکومت کو گاؤں مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزارت دفاع کی جانب سے رہائشیوں کو جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یکم اکتوبر تک گاؤں خالی کرکے تمام مکانات کو منہدم کرکے چلے جائیں، اگر علاقہ مکینوں نے مزاحمت کی تو حکومت خود گاؤں کو منہدم کرے گی۔

خیال رہے مقبوضہ فلسطین کے گاؤں خان الااحمر میں کل 180 افراد رہائش پذیر ہیں۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق یورپی ممالک نے کہا ہے کہ اسرائیل خان الااحمر کو مسمار کرکے دو ملکی حل خلاف کام کررہا ہے۔

دوسری جانب سے فلسطینی گاؤں کان الااحمر کے رہائشیوں نے اسرائیلی دھمکیوں کو رد کرتے ہوئے کہا ’ہم اپنی زمین کو چھوڑ کر ہرگز نہیں جائیں گے‘۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں خان الاحمر دو مقبوضہ علاقوں کے درمیان واقع ہے جو مالے ادومن اور کفار ادومن کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

غاصب صیہونی ریاست اسرائیل مذکورہ علاقوں کو مزید توسیع دینا چاہتا ہے جس کے بعد مغربی کنارہ (ویسٹ بینک) عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا۔

یہاں 40 خاندان آباد ہیں جن کی اکثریت خیموں میں رہتی ہے۔ خان الاحمر کو 1993ء میں اوسلو معاہدے کے تحت باقاعدہ سی ایریا کے تحت محفوظ علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ قبل ازیں جولائی میں یہاں اسرائیلی بلڈوزروں نے کئی ٹینٹ ہٹا دیئے تھے۔

یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل اسرائیلی فورسز کی جانب سے 66 سالہ فرانسیسی امریکی پروفیسر فرینک رومانو کو مغربی کنارے پر واقع گاؤں الخان الاحمر سے صیہونی فورسز کے امور میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔

امریکی پروفیسر کو الخان الاحمر سے فلسطینی شہریوں کی املاک منہدم ہونے سے بچانے کے لیے لگائی جانے والے رکاوٹوں کو ہٹانے والے بلڈوزر کے سامنے کھڑے ہوگئے تھے جس کے باعث انہیں فلسطینی کارکن کے ہمراہ اسرائیلی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں