تھانوںمیں اندھیرنگری قانون اور انصاف سر عام فروخت ہو رہا ہے ایک صحافی بھی بھینٹ چڑگیا ظلم وذیادتی کی انتہاء

تحریر :سلطان احمد گوجر
تھانہ گگھڑمنڈی پولیس نے رشوت اور بدعنوانی کی خبروں کی اشاعت پر غصہ نکالتے ہوئے مقامی صحافی عمران بٹ کے خلاف ایک پرائیویٹ ہسپتال میں گُھس کر توڑ پھوڑ کر کے نقصان کرنے بھتہ مانگنے لیڈی ڈاکٹر کے بیڈ روم میں داخل ہو کر کپڑے پھاڑنے اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتارکر لیا ایس ایچ او گگھڑ منڈی نعیم بٹ نے مقدمہ کے مدعی سے تحریر لی ہے کہ وہ مقدمہ سے دستبردار یا انکاری ہوئے تو ان کے خلاف کاروائی کریں گے ،پہلے وقوعہ کے محرکات کا جائیزہ لیں کہ اصل حقائق کیا ہیں عمران بٹ کی شادی ہوئی پہلے بچی کی امید پر بیوی کو لیکر ہسپتال گئے لیڈی ڈاکٹر نے فیس لیکر دوائی لکھ دی اور دوبارہ آنے کا کہا بچے کا علاج ہوتا رھا کئی ماہ گزرنے کے بعد مسلسل علاج کے بعد اچانک ایک دن عمران بٹ صحافی بیوی کو لیکر کینٹ میں اور ایک لیڈی ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے انکشاف کیا کہ بچی کے سر میں پانی ہیں جس کو ابتداء میں کنٹرول کیا جا سکتاتھا اس انکشاف کے بعد دوبارہ پرائیویٹ ہسپتال کی ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو انہوں نے غلطی کا اقرار کرتے ہوئے اسی کو گوجرانوالہ یا لاہور جانے کا مشورہ دیا گوجرانوالہ ہسپتال میں آنے پر آپریشن ہوگیا بچی کی پیدائش ہوئی تو سر میں پانی تھا فیصل ہسپتال جانے کا مشورہ ملا تو روزنامہ حکومت اور عروج ٹی وی کے بیورو چیف شاہد گھمن کے ہمراہ بچی کو فیصل ہسپتال لایا گیا تو ڈاکٹر قیصر بٹ نے کہا کہ اسکا بچنا مشکل ہے اسے زندہ رکھنا بھی تکلیف دہ ہے تاہم کسی معجزہ کی امید پر گھر لائے تو بچی فوت ہوگی کفن دفن کے بعد تحریری درخواست پر کمشنر ای ڈی او ہیلتھ کو صورتحال سے آگاہ کیا مقامی پولیس کو بھی درخواست دی مقامی پولیس نے فریقین کو طلب کیا اور مسئلہ کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا مقدمہ کے خوف سے پرائیویٹ ہسپتال کی انتظامیہ نے باجوہ سے رابطہ کیا اور شام کو اسکے ڈیرے پر دونوں فریق اکھٹے ہوئے تو ہسپتال کی انتظامیہ نے اخراجات کی مدد میں ٣٥ ہزار روپے دینے کا عندیہ ظاہر کیا تاکہ صلع صفائی ہوسکے عمران بٹ کا موقف تھا کہ شادی کی پہلی خوشی غارت کی اور بیوی کو روگی بنادیا تاہم وہ امل خانہ سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے عمران بٹ جواب اور مزید بات چیت کے لیے ہسپتال گئے تو ڈاکٹر اور دیگر لوگوں نے ان پر تشدد کیا اور دھمکیاں دیں جس کی آڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے عمران بٹ کی واپس آتے ھی ہسپتال انتظامیہ نے تھا نہ سے رابطہ کیا رات گشت کے دوران بارہ بجے پولیس ہسپتال آئی شیشہ توڑا اور ایک بنا وقوعہ بنا کر دوسرے دن عمران بٹ کو تھانہ طلب کیا اور ایک اخبار جس پر وقوعہ کی خبر تھی منگوایا اور پھر عمران بٹ کو پاپند سلاسل کر کے مقدمہ درج کر کے تین روزہ ریمانڈ حاصل کرلیا گوجرانوالہ میں وقوعہ کا علم ہونے پر صحافیوں نے ایس ایچ او نعیم بٹ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ جو ہو چکا اسے چھوڑو دونوں فریقوں کی صلع کر وا دیتے ہیں حالانکہ ہسپتال میں کیا ہو رھا ہے پورا علاقہ جانتاہے ایسے بدنام زمانہ ہسپتال تو ویسے ہی عوام اور محکمہ صحت کے ما تھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے عمران بٹ جو خود فیس دیکر بیوی کا علاج کرواتارھا ہے بھتہ کیا لے گا اسکاسب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ باخبر ہونے کی وجہ سے منشیات اور دوسرے قانونی طور پر پکڑے جانے والے ملزم کو مک مکاوا کے بعد ایس ایچ او سے براہ راست موقف لینے کی کوشش کرتا با اثرتھانیدار بلایہ کیسے برداشت کر سکتا تھا کہ کوئی اس کی نا جائیزآمدن حساب رکھے اتنے اختیارات اور سفارشات کے باوجود وہ اسکا کچھ نہ کر سکے عمران بٹ کا قصور کیا تھاپولیس کے ایس ایچ او نے بے بنیاد مقدمہ اور گرفتاری میں اتنی عجلت سے کام کیوں لیا عمران بٹ بے باک صحافی ہے ایس ایچ او نعیم بٹ تھانہ گرجاکھ میں تعینات تھا سر عام منشیات فروشوں سے اور مقدمات کو الٹ پلٹ کرنے پر رشوت لیتا عوام کی دھائی اور رشوت کی رقم واپس ہونے پر اسے مزید حوصلہ افزائی اور انعام کے طور پر ایک بااثر سفارشی کے حکم پر تھانہ گگھڑ منڈی تعینات کرویا جہاں جاتے ہی منشیات فروشوں سے رابطے شروع ہوگئے منشیات فروش کو پکڑ کررشوت لے کر چھوڑ دینا انکی پرانی عادت بھی ہے عمران بٹ با خبر صحافی تھے انکی غلطی کہ براہ راست ہی پوچھ لیتے اور پھر یہ موصوف خبروں کی زینت بن جاتے اپنا غصہ نکالنے اور عمران بٹ کو مزا چھکانے کے لیے یہ موقع ہاتھ آگیا ایس ایچ او نعیم بٹ نے ایک معطل شدہ کانسٹیبل ذوالفقار کو بھی بطور کارِخاص رکھا ہوا ہے معطل شدہ ملازم کو ساتھ رکھنے کا مطلب سمجھ میں آتا ہے کہ افسران نے اسے معطل کیا اور یہ صاحب حکم عدولی کر تے ہوئے پرائیوٹ ڈیوٹی کے ذریعے اپنے با اثر سفارشی کے زور پر افسران للکار رہے ہیں کہ دیکھو معطل کرنے کے باوجود بھی وہ کام کر رھا ہے جو کر سکتے ہو کر لو رشوت مقدمات کے اندراج اور منشیات ہر قسم کے جرم کی فیس ادا ہونے کی آزادی ہے جی یو جے کے صدر راجہ حبیب اور دیگر صحافیوں کے وفدنے آر پی او امین ونیس سے ملاقات کر کے انہیں حالات کی سنگینی اور ایس ایچ او کی چیزہ دستوں ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی جنہوں نے تفتیشںاور غیر جانبدرانہ تحقیقات کے لیے ایس ایس پی انو سٹی گیشن طاہراسمعیل کے سپرد کر دی تھانوں میں رشوت اور غیر قانونی دھندے کا عروج ہے وہ شائید اس سے قبل نہ تھا ہر اہلکارحسبِ توفیق اس بہتی گنگامیں ہاتھ دھو رہا ہے اہلکاروں کے سفارشی با اثر بھی ہیں اور ان کی سفارش بھی گارنٹی شدہ ہے تو پھر ڈر کس بات کا تھانوں میں انصاف سر عام بِک رہا ہے ایک دو نہیں کسی بھی تھانے میں چلے جائیں قانون اور انصاف کی سر عام بولی لگ رہی لیکن افسران کے نزدیک سب اچھاہے بلکہ اوپر تک اس سے بھی اچھاہے پولیس کے بڑے بڑے افسران کا ایک ویژن فرینڈلی پولیس ہے لیکن یہ کیسی فرینڈلی پولیس ہے جو عوام کو فرینڈلی چاھتی لیکن خود اسکے لیے تیار نہیں تھانوں میں ایس ایچ او سے کا نسٹیبل تک ہر اہلکار کی نظر جیب پر اوررویہ ہتک آمیزہو تو نفرت ہی پروان چڑھ سکتی ہے دوستی نہیں افسران اگر تھانوں تک بھی نظر رکھیں تو شائید حالات بہتر ہو سکیں پولیس لائن میں انسپکٹروں کی ظفر موج ہے آخر رشوت خور ایس ایچ او ہی معیار کیوں ؟بہتری کی گنجائش ہر وقت ہوتی ہے عوام کو بہتری کی
بڑی امیدیں تھی لیکن یہ امیدیں بھی دم توڑ رہی ہیں ریجن اور ضلعی افسران کے خیالات سے کچھ امیدیں قائم ہوتی ہیں لیکن عملی مظاہرہ نہ ہونے سے یہ بھی ،،،،،،،،،،

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*