!!!سب بکتا ہے


…شفیق احمد صدیقی
ارے بھائی یہاں سب بکتا ہے، سب کی ایک قیمت ہے، جو جس کو جتنی زیادہ قیمت دیتاہے اس کی وفاداریاں اسی کیلئے مختص ہوجاتی ہیں اور وہ بھی صرف اتنے ہی عرصے جتنے جب تک نئی بولی نہیں لگتی یا نئی قیمت نہیں ملتی، یہ تمام باتیں میں محض تفریح طبع کیلئے تحریر نہیں کررہا۔بلکہ جو حقیقت ہے اس کو بیان کر رہا ہوں اور یہ حقیقت حال ہمارے ٹی وی چینلز کے رپورٹرز،نیوز کاسٹرز، اینکرز، مارننگ شو ہوسٹ خواتین و حضرات پر مکمل فٹ ہوتی ہے۔
یہ صحیح ہے کہ مشرف دور میں شروع ہونے والے نیوز چینلز نے جن میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے میڈیا کو ایک نئی سمت دی مگر اس کے ساتھ ہی بڑے صحافیوں کو ایک ”منڈی“ بھی فراہم کی جہاں سب اپنی اپنی قیمت بڑھا کر اپنی وفاداریاں ایک سے دوسرے چینل تک منتقل کردیتے ہیں۔ان میں وہ بڑے بڑے نام بھی شامل ہیں جن کو ناظرین قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے عقیدت و نیاز مند ا±ن کی ہر بات کو آمنا و صدقنا کے مصداق درست قرار دیتے ہیں۔ان میں ہمارے ڈاکٹر حضرات میں شاہد مسعود اور عامر لیاقت حسین سر فہرست ہیں۔ڈاکٹر شاہد مسعود کو اے آر وائی نے شناخت دلائی ،تاہم وہ ایک ”بہت بڑے معاوضے“پر جیو نیوز سے منسلک ہوگئے، اس کے بعد وہ پی ٹی وی چلے گئے وہاں سے پھر جیو نیوز آگئے بڑی لعن طعن ہوئی اور سنا کہ وہ اس سے بھی زیادہ تنخواہ پر واپس آئے پھر اچانک انہوں نے چند ماہ قبل جیو کو چھوڑا اور دوبارہ اے آر وائی جوائن کرلیا اور آج کل ان کی وفاداریاں اب ایک اور نئے میڈیا گروپ پرل کیلئے مخصوص ہوچکی ہیں۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے دو اداروں جیو نیوز اور اے آر وائی کو دو دو بار جوائن کیا اور ہر بار سنا ہے کہ ان کے مشاہرے اور مراعات میں انتہائی معقول اضافہ ہوا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اس نئے ادارے سے کب تک منسلک رہتے ہیں اور اس کو ہوا کے دوش بدوش ہونے بھی دیں گے یا اس سے قبل ہی کسی اور کو اپنی وفاداری اور زیادہ داموں میں فروخت کردیں گے۔
رہے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین تو انہیں صحیح معنوں میں جیو نے متعارف کرایا اور کچھ ماہ قبل تک یہی ذہنوں میں تھا کہ ان کی اس ادارے سے وفاداریاں تاحیات ہیں تاہم بانی کارکن ہونے کے باوجود انہوں نے زیادہ معاوضے کے عوض اپنی وفاداریاں اے آر وائی کو بیچ دیں اور موصوف جو کل تک جیو اور جنگ گروپ کے حق میں لمبی لمبی دعائیں مانگتے تھے اب ان کی دعائیں بھی وفاداریوں کی طرح دوسری طرف منتقل ہوگئی ہیں۔
اس حوالے سے میں ایک واقعہ بھی بیان کرتا چلوں ، ہوا یوں میں اپنی بائیک پر ایک چوراہے پر کھڑا تھا کہ ایک بھکارن جو ہر ایک کے آگے ہاتھ پھیلاتی تھی اور دعاﺅں سے نوازتی تھی اپنا مقصد پورا ہوجانے پر اس کی دعاﺅں کا رخ دوسرے کی جانب ہوجاتا تھا اس کو دیکھ کر مجھے ان موصوف (عامر لیاقت )کی دعاﺅں کا خیال آیا کہ ان کی دعائیں بھی اسی بھکارن کی طرح ہیں جس کو جو پیسے دے گا اور جتنے زیادہ دے گا وہ اسی کی طرف اپنی دعاﺅں کا رخ کردے گی کہ یہاں ”سب کچھ بکتا ہے“۔
میں یہاں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں خدانخواستہ کسی کے ترقی کرنے کے خلاف نہیں ہوں، نہ میرا اپنے الفاظ سے کسی کی تحقیر یا توہین کرنا مقصود ہے بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ سب ہی کو آگے بڑھنے، ترقی کرنے اور پھلنے پھولنے کا موقع ملنا چاہیے مگر میرا موقف یہ ہے کہ اس حوالے سے بھی کچھ اخلاقیات ہونی چاہئیں، کچھ ضابطے بننے چاہئیں، ایسی ترقی سے کم از کم گریز ہونا چاہیے جس سے ہوس چھلکتی ہو اور ایسے لوگوں کو بڑے معاوضوں کی پیشکش کرنے والوں کے بھی کچھ اخلاقی اصول ہونے چاہئیں، کہ کہیں وہ کسی کے گھر کا چراغ بجھاکر تودوسرے کو بڑے بڑے پیکیجز سے نہیں نواز رہے، جیسا کہ مختلف چینلز میں دیکھا جارہا ہے کہ بڑے بڑے سبز باغ دکھا کر پوری پوری ٹیم ”توڑ لی“ جاتی ہے اس کے بعد اپنے تئیں یہ سمجھ کر کہ مخالف کو ایک زبردست نفری سے محروم کردیا گیا ہے ، اس پوری ٹیم سے ”چھانٹی“کی جاتی ہے اور غیرضروری اضافی افراد اور بعض اوقات تو پوری پوری ٹیم کو بوجھ قرار دے کر بے روزگار کردیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو ”سفید ہاتھی“توڑا جاتا ہے، اس کو پوری مراعات سے نوازا جاتا ہے جو بعد میں کسی بڑی ”آفر“کے ملنے پر اپنی وفاداری کا رخ بھی موڑ لیتا ہے۔ان میں اے آر وائی، سماء ، آج اور دنیا چینلز پیش پیش ہیں۔
اسی طرح کچھ سینئر جرنلسٹ/ اینکرز دوسرے چینلز سے زائد تنخواہ و مراعات کیلئے رابطہ کرتے ہیں اور ان معاملات کو جان بوجھ کر خفیہ رکھنے کے بجائے افشا کردیتے ہیں جس کے بعد چینلز مالکان منہ مانگے معاوضے اور مراعات پر ان کو روک لیتے ہیں اور یہ اپنی سابق جگہ پر یا اس سے بڑی پوسٹ پر ایک بڑی قیمت پر تعینات ہوجاتے ہیں۔ اس سب میں ستم ہوتا ہے ان چینلز اور اداروں میں کام کرنے والے ”کم درجے “کے صحافیوں اور ورکرز پر جو برسوں سے ان اداروں سے اپنی وفاداریاں قائم رکھے ہوتے ہیں اور بعض تو مرتے دم تک ان سے وابستہ رہتے ہیں، ان کارکنوں کواس مراعات یافتہ طبقے کو کچھ اس طرح خراج دینا پڑتا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں سالہا سال کوئی اضافہ نہیں کیا جاتایا کئی سال بعد اضافہ کیا بھی جاتا ہے تو بالکل اسی طرح جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ… اور بعض اوقات ان کو چھانٹیوں کا سامنا بھی ہوتا ہے، اس سب صورتحال کا نشانہ اس ”کم درجے“ کے طبقے کو اس لئے اٹھانا پڑتا ہے کہ پالے جانے والے سفید ہاتھیوں کا خرچہ اٹھاتے اٹھاتے اداروں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور وہ اپنا زور ان بیچاروں پر منتقل کردیتے ہیں۔
اس ساری صورت حال کا تجزیہ کیا جائے تو افراط و تفریط کا ماحول ہمیں ہر جگہ ملے گا۔ان ”کم درجے“کے ملازمین کے اذہان اور صحت پر اس تمام صورت حال کا کیا اثر پڑتا ہے اور یہ بے چارے جو کسی بھی وقت بیروزگار ہونے کی سولی پر لٹکے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں،اس سے ان اداروں کے مالکان کو کوئی غرض نہیں ہوتی،کیوں کہ یہ لوگ تو ہوتے ہی قربانیوں کیلئے ہیں…بھلا کبھی کسی قربانی کے بکرے سے پوچھ کر اس پر چھری چلائی گئی ہے؟

(بشکریہ دوسرارخ )

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*